ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلور کے قریب منڈیا میں بس نہر میں جاگری؛ 30 لوگوں کی موت؛ مہلوکین میں دس بچے شامل

بنگلور کے قریب منڈیا میں بس نہر میں جاگری؛ 30 لوگوں کی موت؛ مہلوکین میں دس بچے شامل

Sun, 25 Nov 2018 02:23:49    S.O. News Service

بنگلور 24/نومبر (ایس او نیوز) کم ازکم تیس افراد نہر میں ڈوب کر اُس وقت ہلاک ہوگئے جب یہ سبھی لوگ ایک بس پر سوارپانڈوپورا سے منڈیا جارہے تھے کہ بس بے قابو ہوکرپانڈوپورہ کے وشویشوریا نہر میں جاگری۔ حادثہ سنیچر کی دوپہر قریب ساڑھے بارہ  بجے بنگلور سے سو کلومیٹر دور منڈیا میں  پیش آیا۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق بس پر قریب 32 لوگ سوار تھے جس میں  سے   30 لوگوں کی لاشیں نہر سے نکالی کی گئی ہیں، بتایا گیا ہے کہ صرف دو مسافروں  کو جس میں ایک بچہ بھی شامل ہے،   بچالیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حادثہ کے فوری بعد مقامی لوگوں نے راحت اور بچاو کا کام شروع کیا۔ اطلاع کے مطابق نہر میں پانی کی سطح کافی زیادہ ہے جس کے نتیجے میں بس جیسے ہی نہر میں جاگری، مسافر نہر میں ہی ڈوب کر مرگئے۔ بتایا گیاہے کہ  متعلقہ روڈ کی حالت بھی کافی خستہ ہے اور ویشویشوریا نہر کے اطراف کوئی حفاظتی اقدامات نہیں اپنائے گئے ہیں حالانکہ یہ نہر بارہ فٹ گہری ہے، ذرائع کی مانیں تو بس پر ٹیکنیکی خرابی پیش آنے کی وجہ سے بس کا اسٹرینگ ایک طرف جام ہوگیا، جس کی وجہ سے  جیسے ہی   ڈرائیور کے ہاتھوں  بس بے قابو ہوئی، بس سیدھے نہر میں جاگری۔

عینی شاہدین کے مطابق  جب بس نہر میں گرگئی تو اس وقت ہماری تمام تر کاوشوں کے بائوجود کم ازکم اٹھارہ کے قریب مسافر اس بہتے پانی کی نذر ہوگئے، جیسے ہی ہم نے پانڈوپورا پولس کو حادثے کی جانکاری دی، وہ جلد ہی جائے وقوع پرپہنچ گئی اور تمام معاملات کو سنبھال لیا، جلد ہی غرقاب شدہ مسافرین کی بازیابی کے سلسلہ میں معروف غوطہ خوروں کی مدد لی گئی۔ میسور کے فائر بریگیڈ کے جوان بھی جلد ہی راحت اور بچاو کے کام میں لگ گئے، جو ہلاک ہوچکے تھے اُن کی لاشوں کو  منڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے پوسٹ مارٹم روم لے جایا گیا، جہاں اُن کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ حادثے میں دس اسکولی بچے بھی فوت ہوگئے جبکہ نعشوں کی شناخت کے بعد تمام نعشوں کو اُن کے ورثہ کے حوالے کیا گیا ۔

حادثے کی اطلاع پھیلتے ہی پانڈوپورا کے کئی دیہاتوں میں صف ماتم بچھ گئی۔ مرنے والوں کے ورثاء بھی کافی تعداد میں جائے وقوع پرپہنچ کر  رنج و غم میں مبتلا ہوگئے

حادثے کی خبر ملتے ہی وزیراعلیٰ ایچ ڈی کماراسوامی پھر بعد میں سابق وزیراعلیٰ سدرامیا بھی جائے وقوع پر پہنچے اور جائے واردات  کا جائزہ لیتے ہوئے ورثاء کے ساتھ رنج و غم کا اظہار کیا اور  اُن کی تعزیت کی۔ وزیراعلیٰ کماراسوامی نے حادثہ پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری راحت اور بچاو کا کام کرنے  کا حکم دیا   حادثے کے فوری بعد ضلعی انچارج وزیر ایس پٹاراجو بھی جائے وقوع پر پہنچ گئے اور حادثہ میں فوت ہونے والوں کے ورثاء کو دلاسہ دلایا۔ وزیراعلیٰ  نے مرنے والوں کے ورثاء کو فی کس پانچ لاکھ روپئے معاوضہ دینے کا اعلان کیا اسی طرح سدرامیا نے کہا کہ وہ  مہلوکین کے ورثاء کو سرکاری سہولتیں فراہم کرنے مخلوط حکومت سے درخواست کریں گے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ بس کافی پرانی ہوگئی تھی جس کی وجہ سے  حادثہ کا شکار ہوگئی، لوگوں نے بتایا کہ علاقہ میں لوگوں کو سفر کرنے کے لئے سرکاری بسوں کا انتظام نہیں ہے اور پرائیویٹ بسوں کے ذریعے ہی سفر کرنا مجبوری ہے۔ حادثے کے فوری بعد ہزاروں لوگ جائے وقوع پر پہنچ گئے اور بس ڈرائیور کی لاپرواہی اور بس کی خستہ حالی پر سخت ناراضگی ظاہر کی۔

بتایا گیا ہے کہ  حادثہ کے  فوری بعد راجکمار ٹراویلس نامی بس مالک سرینواس فرار ہوگیا ہے اور منڈیا پولس اُسے تلاش کررہی ہے۔


Share: